اجڑا ہوا گلشن: ایک مجبور ماں کی داستان خوشیوں کا چمن

 اجڑا ہوا گلشن: ایک مجبور ماں کی داستان خوشیوں کا چمن

عاصمہ کا گھر کبھی خوشیوں کا گلشن تھا۔ اس کا شوہر احمد ایک شفیق انسان تھا، اور ان کی

 چھوٹی سی بیٹی "دعا" اس گلشن کا سب سے خوبصورت پھول تھی۔ ہنسی، قہقہے اور سکون اس گھر کا اثاثہ تھے۔ لیکن وقت نے ایسی کروٹ بدلی کہ احمد اچانک ایک حادثے میں چل بسا۔ عاصمہ کا ہنستا کھیلتا چمن ایک ہی پل میں ویران ہو گیا۔ وہ ایک بے بس بیوہ بن گئی، جس کے پاس یادوں کے سوا کچھ نہ بچا۔


سائے کی تلاش اور دوسرا نکاح


سال گزرتے گئے، عاصمہ نے اکیلے حالات کا مقابلہ کیا مگر معاشرے کی سنگدل نظریں اور تنہائی کا خوف اسے ستانے لگا۔ اسے اپنی جوان ہوتی بیٹی کے سر پر ایک مرد کے سائے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ رشتہ داروں کے اصرار پر، اس نے ساجد نامی شخص سے دوسرا نکاح کر لیا۔ ساجد شروع میں بہت ہمدرد اور نیک انسان دکھائی دیتا تھا۔ عاصمہ کو لگا کہ اس کے اجڑے ہوئے گلشن میں پھر سے بہار آنے والی ہے، لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ یہ بہار دراصل ایک بھیانک طوفان کا پیش خیمہ تھی۔


شوہر کی غلط نظر اور تلخ حقیقت


شادی کے چند ماہ بعد ہی ساجد کا اصل روپ سامنے آنے لگا۔ عاصمہ نے محسوس کیا کہ ساجد کی نظریں دعا پر بدل چکی تھیں۔ وہ نظریں ایک شفیق باپ کی نہیں، بلکہ ایک گھناؤنے شکاری کی تھیں۔ جب بھی دعا کمرے میں ہوتی، ساجد کی غلیظ نظریں اس کا پیچھا کرتیں۔ عاصمہ کا دل ہول اٹھتا۔ وہ راتوں کو سو نہ پاتی۔ جس سائے کو وہ اپنی بیٹی کی ڈھال سمجھ کر لائی تھی، وہی سایہ اب اس کے پھول کو نگلنے کے لیے تیار کھڑا تھا۔ عاصمہ کا سکون، امیدیں اور مان ایک بار پھر شیشے کی طرح چور چور ہو گئے۔


ممتا کا فیصلہ اور عبرت ناک انجام


ایک شام، جب عاصمہ باورچی خانے سے لوٹی، تو اس نے ساجد کو دعا کے کمرے کے باہر مشکوک حالت میں کھڑے پایا۔ دعا اندر خوف سے سہمی ہوئی تھی۔ عاصمہ کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ اس نے جان لیا کہ اب خاموشی کا مطلب اپنی بیٹی کی زندگی اور عزت کی بربادی ہے۔ اس نے بغیر کسی خوف کے ساجد کا گریبان پکڑا، اسے گھر سے نکل جانے کا کہا اور اسی وقت پولیس کو بلانے کا فیصلہ کیا۔


عاصمہ نے سیکھ لیا تھا کہ کسی کمزور سائے سے بہتر ہے کہ وہ خود اپنی بیٹی کی ڈھال بنے۔ گلشن تو اجڑ چکا تھا، مگر وہ اپنے اس آخری پھول کو کسی قیمت پر مرجھانے نہیں دے سکتی تھی۔

 


Comments

Popular posts from this blog

تنہائی کی دوستی