دلہن کے ارماں خاک میں مل گئے
دلہن کے ارماں خاک میں مل گئے
شاداب نگر میں سائرہ کی شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں وہ بچپن سے ہی ایک خوبصورت اور امیر گھرانے کی دلہن بننے کے خواب دیکھا کرتی تھی
اس کے منگیتر آصف نے خود کو دبئی کا ایک بڑا بزنس مین ظاہر کیا تھا سائرہ نے شادی کے لیے لاکھوں روپے کے قیمتی لہنگے اور زیورات بنوائے
اور اس کے غریب والدین نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی اور قرض لے کر ایک شاندار بارات کا انتظام کیا
سائرہ کا غرور اور ارمان آسمان چھو رہے تھے نکاح کے اگلے ہی دن تھا جب سائرہ اپنے سسرال پہنچی تو اس کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی
وہ کوئی بڑا بنگلہ نہیں بلکہ ایک تنگ گلی کا پرانا دو کمروں کا مکان تھا جلد ہی یہ سچائی بھی سامنے آ گئی کہ آصف دبئی کا بزنس مین نہیں بلکہ وہاں ایک معمولی ہوٹل میں ویٹر تھا
اور وہ بھی چھ ماہ پہلے نوکری ختم ہونے پر واپس آ چکا تھا
سائرہ نے جب الماری کھولی تو پتہ چلا کہ جو زیورات اسے پہنائے گئے تھے وہ سب نقلی تھے بڑے بنگلے گاڑی اور امیرانہ زندگی کے جو خواب سائرہ نے برسوں سے سجا رکھے تھے وہ ایک ہی پل میں ٹوٹ گئے
جھوٹ اور فریب کے اس محل کے سامنے کھڑے ہو کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی اور اس کے دلہن بننے کے تمام ارماں خاک میں مل گئے
Comments
Post a Comment