تنہائی کی دوستی
تنہائی کی دوستی
رات کو بینا جاب سے آئی، کچھ دیر بعد بیٹا بھی آگیا۔ ہم تینوں نے کھانا کھاتے، باتیں کرتے۔
ایسے ہی ایک مہینہ گزر گیا۔ بینا سے اب میں بہت فری ہو گئی تھی۔ جب وہ جاب پر ہوتی تو کال پر گپ شپ ھوتی۔ ہنسی مذاق، شرارتیں... گھر میں رونق آ گئی تھی۔
ایک رات بینا کے کمرے میں بیٹھی تھی۔ بینا اداس لگ رہی تھی۔
"کیا ہوا بینا؟" میں نے پوچھا۔
بینا نے میری گود میں سر رکھ دیا، "آپی، سہیلی بہت یاد آ رہی ہے۔ اس نے مجھے بہت اپنائیت دی تھی... وہ خانہ کوئی نہیں بھر سکتا۔"
بینا نے سر اٹھا کر مسکرا کر کہا، "آپی، سچ بتاؤں؟ میری سہیلی بہت خاص تھی۔ اس کے ساتھ رہ کر مجھے پتہ چلا کہ عورت عورت کو بھی سہارا دے سکتی ہے... دل کا بوجھ ہلکا کر سکتی ہے۔"
میں حیران رہ گئی، "یہ کیسے ممکن ہے بینا؟"
بینا مسکرائی، "آپی، جب کسی کو اپنا مان لو تو روح کا سکون مل جاتا ہے۔ کسی کو شک بھی نہیں ہوتا۔ دو دل کا ملاپ... وہ الگ ہی دنیا ہے۔"
میں بولی، "اچھا؟ پھر تمہیں تو پتہ ہوگا... تم سمجھاؤ گی تو مجھے بھی سمجھ آ جائے گا۔"
بینا نے میرا ہاتھ تھام لیا، "آپی، سچ میں... جب کوئی اپنا ہو جائے تو دل کو سکون ملتا ہے۔"
بینا نے میرے ہاتھ کو نرمی سے دبایا۔ میرے اندر ایک عجیب سی سرسراہٹ سی ہوئی۔ دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔
میں نے نظریں جھکا لیں... اور وہ رات بہت لمبی ہو گئی۔
چیپٹر 3 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں:👇



Comments
Post a Comment