ڈاکٹر صفرا کی ڈائری: کا پہلا صفہ

 ڈاکٹر صفرا کی ڈائری: کا

پہلا صفحہ 


               ھیلو دوستو 


میرا نام صُفرا ماھی ھے۔ لوگ مجھے ڈاکٹر صُفرا کہتے ہیں۔ پیشہ سے میں سیکسول ہیلتھ کی ڈاکٹر ھوں۔ لوگ میرے پاس جسم کا علاج کرانے آتے ہیں۔ مگر ہر مریض کا مسئلہ دوا سے حل نہیں ہوتا۔



کچھ درد ایسے ہیں جو صرف بات سے ٹھیک ہوتے ہیں۔ کچھ سوال ایسے ہیں جو لڑکیاں صرف اندھیرے میں پوچھتی ہیں۔ میرے کلینک کا دروازہ ہر اس راز کے لیے کھلتا ہے۔ جو لڑکیاں اور لڑکے دنیا سے درد چُھپا کر میرے پاس آتے ہیں۔ آج میں اپنی ڈائری کا پہلا صفحہ کھول رھی ہوں۔ کیونکہ جو میں نے دیکھا ھے، وہ کتابوں میں نہیں لکھا۔



"لوگ سمجھتے ہیں کہ میں صرف ایک عام ڈاکٹر ہوں، لیکن میرا طریقہ علاج سب سے مختلف ھے۔ میں نے میڈیکل کی دنیا کے دو بالکل الگ اور بڑے شعبوں میں مہارت حاصل کر رکھی ہے۔ میں نے ایلوپیتھک (Allopathic) یعنی انگریزی طریقہ علاج کا کورس بھی کیا ھے، اور اس کے ساتھ ساتھ ہومیوپیتھک (Homeopathic) اور حکمت کے پوشیدہ رازوں کو بھی سیکھا ہے۔ 


جہاں انگریزی دوائیاں اور کیپسول کام نہیں کرتے، وہاں میرے ہومیوپیتھک قطرے اور دیسی جڑی بوٹیوں کے نسخے جادو کا اثر دکھاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب لوگ مایوس ہو جاتے ہیں، تو وہ اپنے جسم کے سب سے پوشیدہ اور نازک امراض کا علاج کرانے میرے کلینک کا رخ کرتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ میرے پاس ہر درد کی دوا موجود ھے..."

```

"ایک ڈاکٹر کے طور پر میرا کام جسم کے ان حصوں کا معائنہ کرنا تھا جن کا نام لیتے ہوئے بھی لوگ شرما جاتے ہیں جب وہ میرے سامنے اپنی نسوانیت و مردانگی کا علاج کرانے آتے، تو میری انگلیاں ان کے جسم کے ان نازک حصوں کو چھوتی تھیں۔ وہ سمجھتے ہیں یہ علاج ہو رہا ھے، لیکن میرے اندر کی ہوس اس چھونے سے جاگ اٹھتی تھی اور میں اپنے پیشے کی حدود کو بھول کر جسمانی ملاپ کی ان لذتوں کے بارے میں سوچنے لگتی جو ایک ڈاکٹر کے لیے ممنوع تھیں۔"



ایک دن میرے کلینک کا دروازہ کھلا اور ایک سجیلا، کسرتی جسم کا جوان مرد اندر داخل ہوا۔ اس کے چہرے پر ایک عجیب سی گھبراہٹ تھی۔ اس نے ادھر اُدھر دیکھا نظریں جھکائے، ہاتھ مسلتے ہوئے گھبراہٹ کہا السلام علیکم. ڈاکٹر صاحبہ میں بیٹھی فائل دیکھ رھی تھی، میں نے سر اٹھا کر سنجیدگی سے کہا وعلیکم السلام۔ جی تشریف رکھیں۔ بتائیں، کیا مسئلہ ہے آپ کا؟



 کرسی پر بیٹھ کر، گلا صاف کرتے کہا  وہ... ڈاکٹر صاحبہ... پھر بولنے کی کوشش کرتا ہے لیکن خاموش ہو جاتا ہے پھر کہتا ھے... ڈاکٹر صاحبہ... اصل میں بات یہ ہے کہ.. میں مریض کی ہچکچاہٹ کو بھانپتی پھوئی کرسی پر تھوڑا آگے ھوکر بولی جی جی، بولیئے۔ شرمانے یا گھبرانے کی بالکل ضرورت نہیں ھے۔ میں ایک ڈاکٹر ہوں، آپ کی جو بھی بات ھے کھل کر بتائیں



 

دوستو! یہ میری زندگی کی پراسرار ڈائری کا پہلا صفحہ تھا، جہاں ایک معالج اور عورت کے جذبات کا انوکھا ٹکراؤ ہوا۔ آپ کو میری یادوں کا یہ پہلا حصہ کیسا لگا؟ مجھے نیچے کمنٹ سیکشن میں ضرور بتائیں۔


میری زندگی کے اگلے پُرکشش اور سنسنی خیز واقعے کے لیئے دوسرا صفہ ملاحضہ کریں 

👇




Comments

Popular posts from this blog

"وہ لمحہ جو رکا نہیں بس چلتا گیا"

تنہائی کی دوستی