"وہ لمحہ جو رکا نہیں بس چلتا گیا"
مالکن کی ڈائری چیپٹر 6 "وہ لمحہ جو رکا نہیں بس چلتا گیا" میرے اندر سے ایک سرسراہٹ سی رینگنے لگی جیسے مجھ میں ایک آتش فشاں پھٹ گیا ھو اور میں نے بابر کے سر پر اپنی گال رکھ دیئے مجھے سکون آرہا تھا بابر نے مجھے گلے لگا لیا میرے سامنے بینا کے ساتھ بابر جو کرتا تھا مجھے وھی فیلنگ ھونے لگی "وہ لمحہ جو رکا نہیں بس چلتا گیا" اور تمام حدیں پار کرنے کی کیفیت سی ھونے لگی بابر نے میرے سینے پر اپنا منہ رکھ دیا مجھے ایسے لگا جیسے ساری دنیا کا مجھے سکھ مل گیا ھو میں نے بابر کی کمر سے ہاتھ ہٹا دیا بس من میں ارادہ کیا کے میرا بابر خوش ھو جائے بس بابر کی خوشی میں میری خوشی تھی میں اپنا ہاتھ نیچے لے گئی اور ببلو کو ہاتھ میں لیا ببلو کو سہلانے لگی بابر میری گردن کو لمس کرتا ھوا میرے لبوں پر آیا میں نے اپنے لب کھول دیئے اور میں نے بابر کے لبوں پر لب رکھ دیئے بایر کو نیچے کیا اور میں بابر کے اوپر آگئی ببلو ببلی کے نتیجے الرٹ کھڑا تھا میں مستی میں آگئی اور بابر کو چومنے لگی بابر نے میری نائٹی کی ڈوری کھول کر میرے تھنوں کو دبانے اور چوسنے لگا میں نے پیچھے ہ...

Comments
Post a Comment